ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیوی سے ناجائز تعلقات کے پس منظر میں اپنے ساتھی کے قتل کی سپاری دینے کے الزام میں صحافی روی بیلگیرے گرفتار

بیوی سے ناجائز تعلقات کے پس منظر میں اپنے ساتھی کے قتل کی سپاری دینے کے الزام میں صحافی روی بیلگیرے گرفتار

Sat, 09 Dec 2017 12:35:37    S.O. News Service

بنگلورو 9؍نومبر (ایس او نیوز) اپنی تحریروں سے سینکڑوں شخصیات اور اداروں کو بدنام و رسوا کرنے اور مبینہ طور پر بلیک میل کرنے کے لئے بدنام صحافی روی بیلگیرے کو اپنے ساتھی صحافی کا قتل کرنے کے لئے سپاری دینے کے الزام میں سی سی بی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ روی بیلگیرے اور ایک دوسرے صحافی کو کرناٹکا اسمبلی نے اس سے قبل غلط رپورٹنگ کے معاملے میں ایک سال کی قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی جس پر چند دن قبل ہائی کورٹ سے اسٹے مل گیا تھا۔ مگر بہت زیادہ بیماری کی حالت میں پھنسے ہوئے روی بیلگیرے کی مصیبت اس وقت مزید بڑھ گئی جب گوری لنکیش قتل کی تحقیقات میں جڑی پولیس ٹیم نے میسورو کے غیر قانونی ہتھیاروں کے ڈیلر طاہر حسین اور اس کے ساتھی ششی دھر کو گرفتار کرلیا۔ تحقیقات کے دوران سی سی بی ٹیم کو پتہ چلاکہ بدنام زمانہ ہفتہ وار ہائے بنگلور کے ایڈیٹر روی بیلگیرے نے اپنے ہی سابق ساتھی جرنلسٹ سنیل ہیگاولّی کو ہلاک کرنے کے لئے سپاری دی تھی ، کیونکہ سنیل نے روی کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرلئے تھے۔پولیس نے اس معاملے کی ابتدائی تفتیش کے بعد روی کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیا اور بیمار ہونے کی وجہ سے اسے ایمبولینس میں اپنے ساتھ لے گئی۔

گوری لنکیش قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ ششی دھر نامی شارپ شوٹر کو اس نے ایک تاجر کے اغوا کا منصوبہ بناتے وقت گرفتار کیا تھا۔ اس نے 7.65ایم ایم کی جو دیسی پستول طاہر حسین سے خریدی تھی، بالکل اسی بور اور کیالیبر کی پستول سے ایم ایم کلبرگی اور گوری لنکیش کا بھی قتل ہواتھا۔ اس سلسلے میں قطعی بات بیلسٹک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی کہ طاہر حسین اور ششی دھر کا تعلق کلبرگی اور لنکیش قتل سے ہے یا نہیں ۔ 

دوسری طرف ہوم منسٹر رام لنگا ریڈی نے واضح کیا ہے کہ روی بیلگیرے کا گوری لنکیش کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی گرفتاری اپنے ساتھی صحافی کی سپاری دینے کے لئے کی گئی ہے جو کہ ایک الگ معاملہ ہے اور اس کا گوری کیس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔


Share: